69

راؤ انوار:قانون کو غچہ دے گیا؟ عامر ملک

جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تب تک سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کے لئے دی گئی سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن گذر چکی ہوگی مگر ممکنہ طور پر راؤ انوار کی گرفتاری کے بغیر۔۔۔۔وہ نقیب اللہ محسود کو جعلی پولیس مقابلے میں پار کرنے کے بعد سے چھلاوے کی طرح منظر سے غائب ہوکر مبینہ طور پر بیرون ملک بیٹھا قانون نافذ کرنے والی تمام ایجنسیوں کی بے بسی کا مذاق اڑا رہا ہے۔قانون سے کھیلنے کی عادت کا یہ عادی مجرم جانتا ہے کہ پاکستان میں قانون کی کیا اہمیت اور کیا طاقت ہے۔یہ بات اس سے زیادہ بہتر طریقے سے جان بھی کون سکتا ہے جو اپنی ملازمت کے اب تک کے دورانیے میں ساڑھے چارسو سے زیادہ لوگوں کو پھڑکانے کے بعد بھی کراچی جیسے عروس البلاد میں دندناتا رہا اور کسی میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ اپنے کسی جگر گوشے کے ناجائز مارے جانے پر اس کے خلاف آواز بلند کرسکے۔روشنیوں کے شہر میں اندھیرے بانٹنے والے شخص کو قانون کی بھد اڑانے سے روکنے والا کوئی نہیں تھا کیونکہ وہ ایسے لوگوں سے قریبی رابطے اور واسطے میں تھا جن کے لئے قانون کوئی شے نہیں تھا۔وہ آج بھی اس قانون سے کھلواڑ کرنے میں کوئی امر مانع نہیں سمجھتے۔ ان کے” کاما ”بننے کی وجہ سے ہی تو اس نے کھل کھیلا اور آج انکشافات ہورہے ہیں کہ راؤ انوار کے اثاثوں کی کل مالیت 30 ارب روپے سے زائد ہے۔ 70 ہزار روپے تنخواہ لینے والے کی بیرون ملک جائیدادوں کا بھی کوئی حساب نہیں۔ اس کے اہل خانہ بھی بیرون ملک مقیم ہیں۔ اس حوالے سے ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں اس کی دولت کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ راؤ انوار ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی غیر قانونی فروخت میں ملوث ہے۔ وہ اب تک اربوں روپے کی جائیداد بنا چکا۔ وہ یہ سب کیوں نہ کرتا کہ اس کے سرپرستوں کا دھندہ ہی لوگوں کی جائدادوں پہ ناجائز قبضہ کرنا تھا۔وہ اسی کے ذریعے شہر کی نہایت بیش قیمت پراپرٹی دھونس دھاندلی سے اونے پونے خرید لیتے تھے۔اس کے لئے مبینہ طور پر براہ راست مالکان کو مجبور کیا جاتا جو مان جاتا وہ بھاگتے چوروں کی لنگوٹی سمجھ کے رکھ لیتا جو نہ مانتا جائداد کے ساتھ جان سے بھی جاتا۔انہی سرپرستوں نے آج راؤ انوار کو چھپا رکھا ہے۔تحریک انصاف والے تو محض الزام برائے الزام ہی کہتے ہوں گے کہ بلاول ہاؤس کی تلاشی لی جائے راؤ انوار وہیں سے ملے گا۔ مگر واقف حال لوگ تو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بات مفروضہ نہیں حقیقت ہے کہ کراچی میں اس شخص نے جن کے لئے سینکڑوں لوگوں کو اغواء کرکے انہیں جعلی پولیس مقابلوں میں مارا وہی لوگ آج اسے اپنے پروں میں لئے بیٹھے ہیں۔
تحقیقاتی اداروں کا یہ انکشاف کیا کم ہے کہ 22جنوری کو راؤ انوارایک ہی وقت میں 2جگہ پایا جارہا تھا۔ وہ کیونکہ جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ رہا اس لئے اسے چھپنے کے لئے وہ سارے حربے آتے ہیں جو ان لوگوں کا وطیرہ ہیں۔ کہا گیا کہ اس نے لوکیشن چھپانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ۔ اس کے خلاف تحقیقات کرنے والی ٹیم ابھی تک اسے تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ اپنی دی گئی ڈیڈ لائن گذرنے کے بعد اس کی گرفتاری عمل میں نہ آنے پر کیا اقدام کرتی ہے؟

یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایک سٹنگ چیف جسٹس کو بیٹے کے حوالے سے بلیک میل کرنے والے ایک حاضر سروس پولیس افسر کو مبینہ طور پر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرکے اسے کب تک اور کس حد تک تحفظ دے پاتے ہیں۔بظاہر نظر تو یہی آرہا ہے کہ شہر قائد میں اندھیرے بانٹنے والا رات کے اندھیروں کا فائدہ اٹھا کر قانون کی دسترس سے کافی دور جا چکا ہے۔واللہ اعلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں