A Dangerous Nexus Between India And Pakistan 67

روز مرہ کی ناقص غذا اور ہم – ابراہیم مغل

بین الاقوامی درجے کے حامل بینک کی جدید تقاضوں کے مطابق تعمیر شدہ خوبصورت عمار ت کے باہر سڑک پر گا ڑیا ں گرد اڑاتی گذر رہی تھی۔ ایک جانب بھنگی مسلسل جھاڑو دیئے جارہے تھے۔ وہیں پہ ایک ریڑھی پر بینک کے درمیانے اور نچلے درجے کے ملازمین چکڑ چنوں سے اپنے شکم کی آگ کو ٹھنڈا کر رہے تھے۔ وہ شکم کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں تنہا نہ تھے، بلکہ راہ چلتے اور لوگ بھی اسی ریڑھی کے اردگرد کھڑے اسی عمل میں مصروف تھے۔ گاڑیوں اور بھنگیوں کی اڑائی ہوئی گرد تو کھانے میں شامل ہورہی تھی، مگر کھانا جن گندے اجزاء اور گندے برتنوں میں بنایا گیا تھا، وہ اس کے علاوہ تھا۔ تاہم کھانا کھانے والوں کو ان سب باتوں سے کوئی غرض نہیں تھی۔ صوبے کی فوڈ اتھارٹی بھی اس جانب سے آنکھیں بند کیے تھی۔ اس کی ایک وجہ تھی، اور وہ یہ کہ اگر فوڈ اتھارٹی کے طے کردہ معیار کے مطابق ریڑھی بان کھانا تیار کرتا تو ایک شخص کے کھانے کی قیمت پہ کئی گنا زیادہ لاگت آجاتی۔ ظاہر ہے بینک کے ملازمین اور دیگر راہ چلتے لوگ، اس قیمت کو افورڈ ہی نہ کرسکتے۔ مگر وہ موجودہ قیمت کو افورڈ کر رہے تھے اپنی صحت کی تباہی کی بنیاد پر۔ تو معزز صاحبان! یہ جو ہسپتالون میں ہر وقت مریضوں کے بے پناہ رش کی بدولت مچھلی منڈی کا سا ماحول نظر آتا ہے، وہ کھانے کے اسی طرح کے ناقص معیار کی بناء پر ہے۔ چلئے مان لیا کہ صوبے کی فوڈ اتھارٹی یہاں پہ لوگوں کی مالی مجبوریوں کی بناء پر ان دیکھا سا سمجھوتہ کیے ہوئے ہے، مگر کیا کہیں گے آپ شادی ہالوں کے ناقص کھانے کے بارے میں؟ پورے ملک میں ان دنوں شادیوں کی تقریبات عروج پر ہیں۔ روز مرہ کی بنیاد پر ہر شہر اور قصبے میں شادی کی تقریبات سینکڑوں کی تعداد میں ہورہی ہیں۔ یہ تقریبات ملک بھر میں پھیلے قانونی اور غیر قانونی شادی ہالوں میں انجام پا رہی ہیں۔ ان میں ہزاروں افراد کھانا تناول فرماتے ہیں۔ شادی کے ہالوں کے مالکان کو اپنے منافع سے غرض ہوتی ہے۔ چناچہ وہ حاضرین کو زائد المیعاد اور باسی کھانا کھلانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس حوالے سے فوڈ اتھارٹی کے علاوہ کوئی چیک اور بیلنس رکھنے والی کسی اتھارٹی کا کوئی وجود نہیں جو شادی ہالوں میں تقریبات، انتظامات اور کھانے کے معیار کو قابل عمل بنائے۔ چھٹی والے دنوں میں شہر میں شادیوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ جاتی ہے۔ ایسے میں تمام شادی ہالوں کے معیار کو عملے کے ملازمین کی تعداد میں کمی کے باعث چیک کرنا ممکن نہیں رہتا۔ مگر کیا عملے کی تعداد میں کمی کو بنیاد بنا کر لوگوں کی صحت کو تباہ کردینے کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے؟ کیا اس ملک کا کوئی والی وارث نہیں کہ اس شرمناک دھندے میں ملوث افراد کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ جس طرح چاہیں عوام کو جانوروں کی مانند چارہ کھلائیں؟
کوئی شتر بے مہار جیسی بے مہاری؟ الحفیظ الامان۔ کیا کبھی فوڈ اتھارٹی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ معصوم بچوں کو فراہم کی جانے والی کینڈیز یا مٹھائی کی گولیوں میں کس طرح کے حرام اجزاء شامل ہوتے ہیں؟ جیلیٹن ان گولیوں کا ایک اہم جزو ہوتا ہے۔ یہ جانوروں کی ہڈیوں اور جلد سے حاصل کیا جاتا ہے۔ مگر اس بارے جس جانور کو ترجیح دی جاتی ہے، وہ خنزیر ہے۔ گویا فود اتھارٹی سمیت کسی اتھارٹی کو پرواہ ہی نہیں کہ ہمارے معصوم بچے کس قسم کے حرام کو اپنے جسم کا حصہ بنارہے ہیں۔ اس امر کا تو چیف جسٹس اور سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نوٹس لے چکے ہیں کہ پنجاب میں پینے کے پانی میں آرسینک کی مقدار بہت زیادہ ہے اور عوام کی زندگیوں سے کھیلا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے متعلقہ عہدیداروں سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہسپتالوں، کالجوں اور سکولوں میں استعمال ہونے والے پانی کا کیا معیار ہے؟ صاف پانی نہ ملنے پر شہریوں کو کتنی مشکلات ہیں؟ چیف جسٹس نے یہ سب کچھ عرصہ پہلے میو ہسپتال کے دورے کے موقع پر کہا تھا۔ اور ذرا ملاوٹ کے عمل کو بھی ملاحظہ فرمائیے کہ یہ صرف اشیائے خورد و نوش ہی میں نہیں ہورہی، بلکہ میوہسپتال میں تو خواتین کے مخصوص کردہ وارڈ میں مریض مرد حضرات کو بھی لٹایا ہوا تھا۔ یعنی اب زنانہ اور مردانہ وارڈز میں بھی انسانی ملاوٹ۔ چیف جسٹس کی میو ہسپتال میں ہنگامی آمد کی اطلاع پر انتظامیہ نے ہسپتال کے کچھ معاملات درست کرنے کی کوشش تو کی تاہم یہ حقیقت کھل کر رہی کہ شہر کے سب سے بڑے ہسپتال میں فری ادویات تو کیا معیاری ادویات بھی میسر نہ تھیں۔
صاحبان! یہ ملک اس نہج پہ پہنچ چکا ہے کہ کسانوں کو معیاری بیج تو میسر نہیں تھا، مگر اب تو جراثیم کش دواؤں میں ایسے کیمیکلز کی ملاوٹ کی جارہی ہے جو انسانی زندگیوں کے لیے جان لیوا ہیں۔ فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے جو پانی مہیا کیا جاتا ہے اس میں فیکٹریوں کے آلودہ عناصر شامل ہوتے ہیں۔ پھر اسی پہ بس نہیں کی جاتی بلکہ ان سے حاصل شدہ خشک خوردنی اشیاء میں مزید ملاوٹ یوں کی جاتی ہے کہ پسے ہوئے مصالحہ جات، جیسے پسی ہوئی مرچوں میں اینٹوں کا برادہ، پسے ہوئے دھنیے میں جنگلی پتے وغیرہ شامل کردیئے جاتے ہیں۔ کس کس کا رونا روئیں، یہاں تو بھینسوں اور گائیوں سے زیادہ دودھ حاصل کرنے کی غرض سے انہیں ایسے انجکشن لگادیئے جاتے ہیں جو اِ ن کے مسلز کو ڈھیلا کردیتے ہیں۔ اس طور ان جانوروں کو جو نقصان پہنچتا ہے، وہ اپنی جگہ، مگر انسانی صحت کے لیے بھی یہ دودھ انواع و اقسام کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ ہمارے بظاہر سادہ لوح نظر آنے والے گوالوں نے پہلے تو تالابوں کا پانی دودھ میں شامل کیا، پھر یوریا جیسے مادوں کو دودھ کو گاڑھا کرنے کی غرض سے اس میں شامل کیا اور اب وہ اس قسم کے انجیکشنزسے دودھ کی مقدار بڑھا رہے ہیں۔ یہاں پھر سوال اٹھتا ہے کہ فوڈ اتھارٹی کہاں ہے؟ بسا اوقات تو یہی سمجھ نہیں آتا کہ یہ کس چڑیا کا نام ہے۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اشیائے استعمال کے اصلی برانڈز کے مالکان اپنی نقل شدہ اشیاء کے بارے میں اس لیے کچھ نہیں بتاتے کہ مبادا صارفین اصلی اور نقلی میں پہچان کرنے کی صلاحیت کے نہ ہونے کی بناء پر ان ہی کی اشیاء کو استعمال کرنا ترک نہ کردیں۔ آپ کیڑے تلف کرنے والی دوا گھر میں لے آئیں۔ آپ دیکھیں گے کہ کیڑے اسی دوا کو اپنی خوراک کے طو رپر استعمال کرتے ہوئے پنپ رہے ہوں گے۔ یہاں تک کہ کوئی ان حالات کا مارا انسان زہر کھا کر خود کشی کرنا چاہے گا تو اس میں اسے اس لیے کامیابی نہیں ہوگی کہ زہر بھی خالص نہیں ملے گا۔ وزن یہاں پورے نہیں ہوتے۔ گاہک کو رائٹ ٹو چوز یہاں میسر نہیں۔ جائیں تو جائیں کہاں۔ کس کو اپنا دکھڑا سنائیں؟ یہی باقی رہ گیا ہے کہ عمر سے پہلے اپنے عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں کے جنازے ایک ایک کرکے اٹھائیں اور پھر ایک دن اپنا جنازہ ان سے اٹھوائیں۔ اس سے پہلے زندگی ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے چکر لگاتے ہوئے گزاریں۔ کالم لکھتے لکھتے تھک جائیں، مگر ارباب اختیار اس پہ کان نہ دھریں۔ آپ پرانے دور کو سست روی کا شکار کہنا چاہیں تو کہہ لیں مگر آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس دور کے لوگوں کی صحت قابل رشک ہوا کرتی۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم آج جدید دور کے مکین صحت کی اس دولت سے محروم ہیں؟ وجہ ہے ملاوٹ۔ یہاں پل تعمیر ہوتے ہیں۔ مگر کچھ عرصے بعد ہی زمین بوس ہوجاتے ہیں۔ وجہ؟ اجزائے تعمیر میں ملاوٹ کون چیک کرتا ہے کہ آپ ریستورانوں میں کیا خورد و نوش کر رہے ہیں۔ آپ گوشت جو کھار ہے ہیں وہ گدھوں کا ہونا تو ایک طرف، یہ بھی دیکھنا بنتا ہے کہ وہ زندہ گدھوں کا بھی ہے یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں