An Article On Child Safety By Inam Ul Haq 93

فیس بک کی شاعرہ – انعام الحق

فیس بک کی مقبولیت کے بعد دنیا بھر میں مختلف رجحانا ت اور دلچسپ چیزیں لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بنیں جیسے کہ سیلفی کا جنون یا پھر کسی بھی بڑے ہوٹل کے سامنے سے گزرتے ہوئے فیس بک پر چیک ان لازمی کرنا وغیرہ اس کے ساتھ ساتھ جو ایک اہم چیز دیکھنے کو ملی وہ دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ ہے، یہ وہ دانشور ہیں جن کو گھر والے صرف سبزی اور ناشتہ لانے تک محدود رکھتے ہیں اور گھر کے اہم امور کی ان کو بھنک بھی پڑنے نہیں دی جاتی ۔ اگر ہم فیس بک پر نظر دوڑائیں تو ہمیں پتا چلے گا کہ ہمارے معاشرے میں بھی ایسے دانشوروں کی ایک پوری فوج ظفر موج وجود میں آ چکی ہے ۔بات یہیں نہیں رکی بلکہ ہمارے ہاں تو اس فوج کے ساتھ شاعروں کا ایک لشکر بھی اپنے فن کے ساتھ یلغار کرنے کو تیار کھڑا ہے ۔ فن شاعری میں یکتا و روزگا ران مرد اور خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنا فن دھڑلے سے سوشل میڈیا پر پھیلا رہی ہے او ر ایسا ایسا نابغہ روز گار ادب تخلیق ہو رہا ہے جس کا یارا اردو ادب میں کہاں ۔ بات یہیں تک رہتی تو شاید ہضم کی جا سکتی تھی مگر ان شعرا کے پنکھے مطکب فین جو داد تحسین دیتے ہیں الامان الحفی٭۔۔۔
فیس بک نے جن لوگوں کو گھر بیٹھے شاعر بنایا ہے ان میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے اور مرد زیادہ تر مداحوں کی کیٹیگری میں آتے ہیں۔ ان شاعرہ خواتین کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ یہ ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں ، یک طرفہ محبت ان کا طرہ امتیاز ہے اور ان کی عمر پچیس کا ہندسہ کراس کر چکی ہے ۔ اس لیے وصل سے پہلے جدائی اور انتظار ان کی شاعری میں لازمی جز کے طور پر نظر آتا ہے ۔ ان خصوصیات کی حامل شاعرہ کی شاعری پڑھنے کے لائق ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر یہاں ایک ایسی ہی محترمہ کا ذاتی کلام پیش خدمت ہے ۔ موصوفہ کہتی ہیں کہ
کاش میں آسمان بن جاوں ۔۔
اور کاش تم پرندے بن کر میری طرف اڑتے ہوئے فورا چلے آو ۔۔۔۔
جسے ہی اس شعرکا فیس بک پر نزول ہوا تعریف کرنے والوں کی لائن لگ گئی اور لوگوں نے تعریف کے وہ ڈونگرے برسائے کہ اس شعر کی خالق خاتون اپنے کلام کی آفاقیت کی خود ہی قائل ہو گئیں ۔ ایک صاحب نے فرط جذبات سے مغلوب ہو کر کمنٹ لکھا ، بانو قدسیہ کے بعد آپ ہی عظیم شاعرہ ہیں ، ایک اور فین نے تبصرہ کیا ، سویٹ آپی آپ کے اشعار بھی آپ ہی کی طرح خوبصورت ہیں اور ان میں کہیں کہیں میر تقی میر کا رنگ جھلکتا ہے ،۔۔۔۔۔ خاتون نے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے سب مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور یہ ہولناک خوشخبری سنائی کہ اب وہ ہر ہفتے باقاعدگی سے ایک غزل لکھا کریں گی ۔بات اگر صرف اعلان کرنے تک محدود رہتی تو خیر تھی مگر موصوفہ نے اپنے اعلان کو حرز جان بنا لیا اور جت گئیں ہر ہفتے ایک غزل داغنے ۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فیس بک پر پائی جانے والی یہ خواتین حقیقت میں نہیں ہوتیں کسی نے ان کی نقلی آئی ڈیز بنائی ہوتی ہیں ۔ ا یسا سوچنے والے اصحاب اصل میں ان خواتین سے جلتے ہیں۔ ان کا آفاقی کام اور عالمگیری شہرت ان خضرات سے ہضم نہیں ہوتی۔ ہماری تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا پر پائی جانے والی یہ خواتین بلکل اصلی ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان کا فراہم کردہ بائیوڈیٹا مکمل طور پر نقلی ہوتا ہے ۔ فن شاعری کی استاد یہ خواتین عوامی ادب تخلیق کرتی ہیں اور عموما مردوں میں ہی پاپولر ہوتی ہیں ان کی فرینڈ لسٹ میں کوئی بھائی پھیرو کا فین ملے گا توکوئی واں رادھا رام کا۔۔۔حرام ہے کہ ان کی فرینڈ لسٹ میں تتلیوں والی تصویر کے علاوہ کوئی لڑ کی مل جائے ۔
اگر آپ کو ان صنف کے شعرا کی تلاش ہے تو اس کے لیے استاد لوگوں نے ادب کے متوالوں کی آسانی کے لیے کچھ نشانیاں وضع کر رکھی ہیں جو ان کی پہچان کے لیے تیر بہدف ثابت ہوں گی ۔ جسے ان کے نام پہلی نشانی ان کی فیس بک ڈی پی پر اپنے مہندی لگے چوڑیوں والے ہاتھ کی تصاویرہی لگی ملیں گی یا کبھی جب یہ تخلیق کی بلدیوں کو چھوتی ہیں تو پاوں کی تصویر بھی ان کے مداحواں کو دیکھنے کو ملتی ہیں جو عموما کسی گراونڈ میں نئی چپل کی خوشی میں کھینچی گئی ہو گی ۔ دوسری نشانی یہ اپنی وال پر اقوال زریں لگاتی ہیں اور ان میں دین داری اور نیکی کا رجحان ملتا ہے ۔یہ خواتین بہت اچھی اچھی باتیں کرتیں ہیں ۔ تیسری نشانی ان کی پروفائل چیک کریں تو ان کی پسندیدہ کتابوں کے نام کچھ یوں ہوتے ہیں ، استانی اور ٹیکسی ڈرائیور، میں مجبور تھی اور وہ ظالم تھا، بہن کا دیور اور میں،کچی کلی اور ظالم باغبان، وغیرہ وغیرہ چوتھی نشانی یہ صنف گوگل سے اداس لڑکیوں اور تتلیوں کی تصاویر کاپی کر کے پھیلانا صدقہ جاریہ سمجھتی ہیں۔ آخری اور سب سے اہم نشانی اس قسم کی شاعرہ فیس بک کی جنونی ہوتی ہیں اور دن رات ان کا میسنجر ایکٹیو ہی رہتا ہے ۔ ان میں سے کئی لڑکیوں نے تہیہ کیا ہوتا ہے کہ خاوند لے کر ہی اٹھنا ہے۔ ان کے اس غیر متزلزل ارادے کی وجہ سے بہت سے نوجوان ساری ساری رات میسنجر پر گزارتے ہیں اور ان کے اشعار پر سر دھنتے ہیں ۔ اگر ایسے میں شو مئی قسمت سے ان شعرا کے کام پر کوئی تنقید کر دئے تو یہ مداح اس کو چھٹی کا دودھ یاد کروا دیتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں ایک خاتون نے ایک اداس لڑکی کی فوٹو لگانے کے بعد نیچے شعر لکھا اور ارشاد فرمایا کہ آج بھی یہ شعر میر ی ڈائری میں لکھا ہوا ہے
بیچھڑا کچھ اس ادہ سے کہ رتھ ہی بدل گئی ۔
اک شاخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔
اس کے نیچے کسی انتہائی دل جلے اور اردو سے نابلد قاری نے کمنٹ لکھا کہ ، اچھا ہی ہوا کہ بچھڑ گیا ورنہ اس نے آپ کی اردو پڑھ کر خود کشی کر لینی تھی۔اس کمنٹ کا بہت کیمیائی اثر ہوا اور فورا شاعرہ کے ایک فین نے غصے سے لکھا ، سویٹ آپی اگر آپ حکم کریں تو اس بدتمیز کو مزہ چکھا دوں ؟ آپی نے متانت کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے فوری لکھا ، نہیں پیارے بھائی ایسے ان پڑھ اور جاہلوں کے منہ لگنا مناسب نہیں۔
اس بات پر یہ فین موصوفہ کی رحمدلی اور پاکستان کھپے پالیسی سے اتنا متاثر ہوا کہ اپنا دل اس عظیم شاعرہ کی نظر کر بیٹھا۔ اور ان کو پرائیوٹ میسج میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر لکھا کہ پیاری آپی ، آپ کی نرم دلی کی وجہ سے مجھے آپ سے پیار ہو گیا ہے ۔کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟ اچھی آپی غصے سے جواب دیتی ہے ،،پیارے بھائی میں آپ کو ایسا نہیں سمجھتی اور میں ایسی لڑکی نہیں ہوں ۔ آپ اپنے گھر والوں کو میرے والدین کے پاس بھیجیں ۔
یوں اس محترمہ کی شادی اپنے اس مداح سے ہو جاتی ہے ۔ ایک فیس بک پیج بند ہو جاتا ہے ، متوالوں کے سوال میسنجر پر جواب کے انتظار میں پڑے رہتے ہیں اور اردو ادب ہمیشہ کے لیے ایک عظیم شاعر ہ سے محروم ہو جاتا ہے ۔
نوٹ : اس تحریر کا ماخذ عمران احمد صاحب کا فیس بک سٹیٹس ہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں