181

ماس کمیونیکیشن کی پہلی کلاس – محمد صائم

ماس کمیونیکیشن کی میری پہلی کلاس تھی جذبات ہی کچھ اور تھےاپنے آپ کو میڈیا پرسن سمجھنے کی خوشی تھی تب کہاں اتنا شعور تھا چیزوں کا جس نے بھی جو بھی خواب دکھائے ایسا لگتا تھا کہ یہ سب ہی تو ہمارے خواب ہیں باقیوں کے پورے ہو گئے ہیں بس ہمارے رہ گئے ہیں.
مجھے آج بھی یاد ہے جب نیوز اینکر کے لیے ایک نجی ٹی وی چینل ہماری یونیورسٹی آیا تھا تب ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے ڈین نے مجھے اے گریڈ دیا اور کہا کہ آپ کی سیلیکشن ہو جائے گی نہ بھی ہوئی تو فکر مت کرنا اگلا مرحلہ چینل سے آئے لوگوں کے سامنے اپنی قابلیت کے ہنر دکھانا تھا میں خوشی خوشی ان کے سامنے گیا لیکن ویسی پرفارمنس نہ دے پایا جیسی باہر لائن میں لگے اپنے سب دوستوں کے سامنے دے رہا تھا.
سیلیکٹ تو میں نہ ہو سکا لیکن جاتے جاتے جناب اقرارالحسن سے ہاتھ ملاتے وقت اتنا ضرور کہہ دیا
“اوکے سر انشااللہ فیلڈ میں ملیں گے”
وہ بھی اس بات پر مسکرا کر مجھے ایک ہلکی سی تھپکی دے کر چلے گئے.
خیر میں بتا رہا تھا اپنی پہلی کلاس کا جب ہمارے ایک ٹیچر نے لیکچر میں یہ کہا کہ ہم یہاں سکھائیں گے کہ لوگوں کو دکھانا کیا ہے آپ چاہیں تو اپنے سننے , دیکھنے اور پڑھنے والے کو جس طرف چاہیں لے کر جا سکتے ہیں اور وہ بھی آپ کے ساتھ اس طرف چل پڑے گا اب یہ آپ پر ہے کہ آپ معاشرے کی بھلائی کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے یا ریٹنگ کی بھاگ دوڑ میں لگ جائیں گے آپ میں سے بہت سے ایسے ہونگے جو آگے جا کر اس ملک کے میڈیا میں اہم کردار ادا کریں گے
میرا ہاتھ کھڑا کرنے پر انہوں نے کہا آخر میں سب کو ان کے سوالوں کا جواب ملے گا
آخر میں مجھ سے میرا سوال کرنے کو کہا گیا تو میں نے کہا اگر میں کچھ اچھا کرنا بھی چاہوں تو کیا مالکان ایسا کرنے دیں گے انکو میری مثبت سوچ سے کیا لینا دینا وہ تو بزنس پوائنٹ آف ویو کو دیکھتے ہیں
انہوں نے جواب کے طور پر مجھے کہا تم اپنے فرائض ٹھیک سے ادا کرنا.
تسلی تو نہیں ہوئی تھی ان کی بات سے پر پہلی ہی کلاس میں اس سے زیادہ سوال کرنا مجھے مناسب نہیں لگا.
اس سب میں جس چیز پر میں روشنی ڈالنا چاہتا ہوں وہ ہم میں سے کسی کے لیے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے ہم سب جانتے ہیں کہ کون کیا سودا بیچ رہا ہے اور کون کیا سودا خرید رہا ہے
اس ملک میں کتنے ہی ایسے تماشبین ہیں جن کی کرتوتوں سے سب واقف ہیں لیکن دنیا آج بھی انہیں پسند کرتی ہے.
میرے اکثر دوست ہیں جن کے ساتھ رمضان ٹرانسمیشن پر جب بھی بات کی میری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور سارا دن اسی کو دیکھتے بھی رہتے ہیں.
ہم لوگ بے حس ہو چکے ہیں ہم بدلنا چاہتے ہی نہیں ہیں.
کوئی ایک غلط نہیں ہے پوری قوم زوال کا شکار ہے اور اس وقت صرف میڈیا ہی نہیں ہر ادارے میں بیٹھے مگر مچھ ہماری قوم کی بیواقوفیوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں.
اور ہمارے جیسوں کی آواز کہاں دور تک پہنچتی ہے ہم بھی چند لائکس کے لیے کچھ بھی لکھ دیتے ہیں لوگ پڑھتے ہیں اور بس آگے چلے جاتے ہیں.

قلم بشر
محمد صائم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں