78

نواز کی ہار، شہباز جیت گیا-عامرملک

کالج کا دور تھا،طلبا تنظیموں کی سرگرمیاں عروج پر۔ پولیس کی انوکھی واراتیں، طلبا رہنمائوں پر مقدمات درج کرتی رہتی، گرفتار نہیں کرتی تھی ۔ جونہی کبھی ضرورت پیش آتی، گرفتار کرلیتی ۔ پھر ایک کیس میں ضمانت،دوسرے میں ،تیسرے میں،معلوم ہوتا درجنوں کیس ہیں۔ ضمانتیں کراتے کراتے کئی ماہ گزر جاتے۔ 92 کی بات ہے،پولیس اپنی مخصوص واردات میں مصروف تھی۔معلوم ہوا بہت سے مقدمات درج ہوچکے ہیں۔ ہماری کالج تنظیم کے صدرنے احتجاج کا اعلان کردیا، فیصلہ ہوا کچہری کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ کچہری والے چوک سے تین شہروں کی سڑکیں نکلتی تھیں ،کچہری چوک کو بند کرنے کا مطلب تین شہروں کا رابطہ کاٹ دینا تھا ۔ صبح سویرے کالج جانے کے بجائے تمام بسیں کچہری چوک پہنچ گئیں اور احتجاج شروع ہوگیا، تینوں شہروں کا رابطہ کاٹ دیا گیا۔ہلچل مچ گئی ،دور دور تک ٹریفک جام ۔ انتظامیہ حرکت میں آئی ۔ایس پی ڈاکٹر شفیق اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سمجھدار تھے ،انہوں نے وہاں پولیس کو بھیجا نہ ہی طاقت کا استعمال کیا ۔ وہ اکیلے گاڑی پر آئے ۔گاڑی بھی کافی دور کھڑی کردی اور اکیلے پیدل ہمارے پاس آئے ۔ دوستانہ ماحول میں تمام طلبا رہنمائوں سے گلے ملے۔ کہنے لگے،یار مسئلہ کیا ہے ؟ ناصر خان صاحب طلبا رہنما، جن کی تقریر ہمیشہ اس شعر سے شروع ہوتی تھے۔
میرے کاررواں میں شامل کوئی کم نظر نہیں ہے
جو نہ مرمٹے وطن پر میرا ہم سفر نہیں ہے
ناصر خان نے ایس پی کو مقدمات کی تمام تفصیلات بتائیں ۔ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے،خان صاحب ! صرف اتنی بات ۔۔ میرے دفتر آکر بتایا ہوتا آپ کو احتجاج کی ضرروت کیوں پیش آتی ۔ چلو آئو میرے دفتر،سارے کیس بتائو، ابھی ختم کرواتا ہوں۔ اس کا لہجہ، اسکا خلوص ایسا تھا،احتجاج دو منٹ میں ختم ہوگیا،تمام طلبا کالج چلے گئے ،طلبا کا تین رہنمائوں کا وفد ایس ایس کے ساتھ چلا گیا ۔ مقدمے ختم ہوئے یا نہ ہوئے مجھے نہیں معلوم ،میں ایس پی کو داد دیتا ہوں، جس نے دو منٹ میں احتجاج ختم کروالیا۔ یہ ہوتی ہیں حکمت کی باتیں۔ سانپ کو مار ڈالو،لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔ رہی ہماری حکومت،حکمت سے خالی،ہر کام الٹے طریقے سے۔ لاٹھی بھی تڑوا بیٹھتے ہیں،سانپ بھی نہیں مرتا ۔ جب سجدے کا وقت آتا ہے قیام میں چلے جاتے ہیں، اور وقت قیام سجدے میں گر جاتے ہیں۔ دو مثالیں کافی ہیں ۔ لیگ کے اس دور حکومت میں نواز شریف کا جو پہلا مسئلہ پیش آیا وہ تھا پاناما کا ۔ جس میں غلط حکمت عملی اختیار کی گئی اور اس میں پھنس گئے ۔ اور وہاں سے نکلنے کیلئے کوئی راستہ نہیں بچا۔ دلدل میں پھنس چکے ہیں جہاں سے نکلنا ناممکن ہے۔ بس بات صرف اتنی تھی ،پاناما کا ہنگامہ ہوا، کپتان نے استعفے کا مطالبہ کیا، نواز شریف استعفیٰ دے دیتے اور آرام سکون سے جاتی عمرا میں بیٹھ کر تمام کیس کلیئر کرواتے۔ ماضی کی طرح۔ اپنی جگہ مریم نواز کو الیکشن لڑواتے،ظاہر ہے اس نے جیت جانا تھا۔ اسے وزیر اعظم منتخب کروالیتے ۔ ایک تو اپنی عمر میں اپنے جانشین کو کامیابی کے راستے پر چلتا دیکھ لیتے ۔ دوسرا اپنے کیس ختم کروالیتے ۔ کپتان کیلئے استعفیٰ ہی کافی تھا ، وہ اسے ہی اپنی کامیابی سمجھ کر ڈھول پیٹتے رہتے ، انہوں نے عدالت جانا تھا نہ ہی گلی گلی میں چور چور کا شور مچانا تھا۔ میاں صاحب کا عوام میں موروال بلند ہوجانا تھا اور 2018 کے الیکشن واضح اکثریت سے جیت جانے تھے اور پھر حکومت قائم ہوجانی تھی ،مزید پانچ سال ۔ اگلے پانچ تک کپتان بوڑھا ہوچکا ہوتا ۔ راستے کا سب سے بڑا پتھر ہٹ جانا تھا ۔ لیکن حکمت کہاں ؟ بس ڈھٹائی، ضد بازی، خوشامدیوں کا ٹولہ، ڈٹ جائو نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔زمینی حقائق ہیں، جب کشتی ڈوبنے لگتی ہیں، ہر مسافر اپنی جان بچانے کیلئے کوشش کرتا تھا ۔ن لیگ کا اب یہی حال ہے ۔ حکومت کا دوسرا مسئلہ،کس نے کہا تھا ختم نبوت کے بارے میں آئین تبدیل کرو ؟ مذہبی معاملات کو کون چھیڑتا ہے ؟ آگ میں کودنے کے مترادف۔ پہلے تو مانتے نہیں تھے،بعد میں تسلیم کرلیا ۔ شق واپس لے لی ۔ عوام پوچھنے کا حق رکھتے ہیں ،ترمیم کیوں کی ؟ کس کے کہنے پر کی ؟ ذمہ دار کون ؟ یہ جمہوری حکومت ہے،جس کا روز رونا روتے ہو۔ حکمران عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں ۔ کتنے دن ہوگئے، عوام کے سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ مولوی خادم حسین رضوی چاہے جیسے بھی ہیں، رب جانتا ہے، لیکن اس کا مطالبہ کیا غلط تھا ؟ یہی پوچھ رہا تھا ترمیم کیوں کی ؟ ذمہ دار کون؟ بتا دیتے ۔آخر وہ وزیر قانون کے استعفے پر ڈٹ گئے،زاہد حامد سے استعفیٰ لے لیا جاتا تو کونسی قیامت آجانی تھی ،حکومت کتنے دنوں کی رہ گئی ؟ تین ،چار ماہ اس کے بغیر وزارت کے نہیں گزر سکتے تھے ؟ پرویز رشید، طارق فاطمی،مشاہداللہ وغیرہ سے بھی بھی استعفیٰ لے لیا گیا تھا ،کچھ ہوا ؟ ۔ لیکن یہ سب کیوں ہوا ؟ کیا حکومت ہلاکتیں،جلائو گھیرائو،ہڑتال چاہتی تھی ؟ تمام چینلز ،سوشل میڈیا بند ہوا، ایسا تو کبھی کسی آمر کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ کیا نواز شریف نے پکا فیصلہ کرلیا ہے اگر وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں ؟ فوج کو بدنام کرنے کی سازش ؟ درباری اور سوشل میڈیا کے دانشور ڈٹے ہوئے ہیں ،یہ سب کچھ فوج کروا رہی ہے۔ کیا فوج نے کہا تھا ترمیم کرو؟ کیا پاناما کا انکشاف فوج نے کیا تھا ؟ اصل بات عوام سے کیوں چھپائی جارہی ہے، میاں صاحب سیاسی شہید بننا چاہتے ہیں، چاہتے ہیں حالات ایسے خراب ہوں ،انکی حکومت کو برطرف کردیاجائے۔ عوام کو کہہ سکیں، دیکھو ! ہمارے ترقیاتی کاموں کو روک دیا گیا،ہم تو ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے والے تھے،ہماری حکومت کو برطرف کردیا گیا ۔ میاں صاحب ! ایسے نہیں چلے گا۔ یہ ملک اہم ہے،آپ نہیں ۔ یہ جو کئی افراد ہلاک ہوگئے، ان کا ذمہ دار کون ہے ؟ اپنی بوٹی کی خاطر پورے بکرے کو ذبح نہ کرو۔ چلو فیض آباد دھرنا ختم ہوگیا، سات ہلاکتیں تو رجسٹرڈ ہیں، لیکن اطلاع ہیں ہلاکتیں زیادہ ہیں ۔ لیکن جو اصل بات، حکومت کی سازش ناکام ہوگئی ہے۔ حکومت کون ؟ ایک طرف نواز، دوسری طرف شہباز کا ٹولہ۔ اس واقعہ میں شہباز کا ٹولہ کامیاب ہوگیا، نواز کا ہار گیا۔ یہ بائیس روزہ ڈرامہ ہوا کیسے ؟ دھرنے سے پہلے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی دھرنا قائدین سے تین ملاقاتیں ہوئیں ۔ کیپٹن صفدر نے کہا تھا آپ لوگ وہاں دھرنا دیں،اخراجات میں برداشت کروں گا۔ مقصد کیا ؟ ملک بھر میں ہنگامے پھیلیں، فوج اور عدالت کو بدنام کیا جائے ۔ حقائق کے مطابق ایسا ہی ہوا۔ دھرنے ملک بھر میں پھیل گئے تھے ۔ مہم بھی تیزی سے جاری تھی فوج کروا رہی ہے ۔ آپریشن کا سارا ملبہ عدالت پر ڈالا جانا تھا، ہلاکتیں، جلائو گھیرائو وغیرہ بھی ۔ لیکن ساری سازش ناکام بنا دی گئی ۔ دھرنا قیادت نے کیپٹن صفدر کو اخراجات کا بل پچاس کروڑ کا دیا۔ جس پر انہیں کہا گیا، پونے پانچ کروڑ خرچ ہوئے ہیں ۔ حقائق کب خفیہ رہتے ہیں ۔ رہا شہباز کا ٹولہ، وہ کیسے کامیاب ہوا۔ زاہد حامد نواز شریف گروپ کو چھوڑ کر نثار،شہباز گروپ میں چلا گیا تھا ، بڑے میاں کو معلوم ہوگیا، ان کا وہی طریقہ کار۔زاہد حامد کو سینیٹر اور انکے بیٹے کو ایم این اے کا ٹکٹ دینے کی آفر کردی، زاہد حامد شہباز ٹولے کو چھوڑ کر واپس پلٹ آئے ۔ شہباز،نثار گروپ کو کافی دھچکا لگا، وہ اب زاہد حامد سے نمٹنا چاہتے تھے ۔ وہ بھی دھرنا سازش میں شریک ہوگئے ۔ مظاہرین کو روکا نہیں گیا، آپریشن ناکام بنا دیا گیا، احسن اقبال نے اس بات کا اظہار بھی کیا تھا کہ آپریشن ناکامی میں رانا ثنا اللہ کا ہاتھ ہے ۔وفاقی حکومت پھنس گئی اور زاہد حامد مستعفی ہوگئے ، اب زاہد حامد کا یہ حال ہے وہ اپنے حلقے میں بھی نہیں جاسکتے، شہبازگروپ نے انہیں سبق سکھا دیا ہے۔

ناصر بشیر نے کیا خوب لکھا ہے۔

فقہہ شہر کا لہجہ ہے،پرجلال بہت

تبھی تو شہر میں پھیلا ہے اشتعال بہت

وہ ایک شخس کہ محروم شانہ و سر ہے

اسے ہے جبہ ودستار کا خیال بہت

وہ پہلے آگ لگاتا ہے، پھر بجھاتا ہے

اسے ہے شعبدہ بازی میں بھی کمال بہت

امیر شہر کی ساری تجوریاں کالی

گدائے شہر کے کشکول میں ہے مال بہت

محافظوں کی ضرورت،تمہارے جیسے کو

ہمارے جیسوں کو اپنے بدن کی ڈھال بہت

کہاں سے سیکھ آئے ہو، گفتگو کا ہنر

اٹھا رہے ہو،سربزم، تم سوال بہت

اسی کی ہاتھ پر بیعت ! اسی سے عہد وفا

تمہیں یزید کا جس پر تھا احتمال بہت

فضا میں اڑتے پرندوں کو بھی نہیں معلوم

کہ باغبان نے بچھائے ہیں،اب کے جال بہت

جوہورہا ہے تماشا، وہی دکھاتا ہے

کلام ہوتا ہے ناصر کا حسب حال بہت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں