88

پنجاب کے حصے بخرے یا سیاسی چال – رضی نامہ – رضوان الرحمن رضی

پنجاب کے خادمِ اعلیٰ نے آخر کار صوبے میں اپنی انتخابی مہم کا آغاز جلی انداز میں کچھ یوں کیا کہ صوبہ پنجاب کو چار انتظامی علاقوں میں تقسیم کرنے کی ایک عدد شرلی چھوڑ دی ہے ۔یعنی شرقی ، غربی، شمالی اور جنوبی۔ پنجاب کے چیف سیکرٹری کے حوالے سے یہ خبر میڈیا کے کانوں میں پھونکی گئی اور اس کا دفاع کرنے کے لئے ن لیگ کے حال ہی میں مقرر کردہ ترجمان مختلف ٹی وی چینلز پر بٹھوائے گئے کہ وہ اس کو پنجاب کے تمام سلگتے مسائل کا تریاق ثابت کر سکیں جو اس سے قبل کسی کے ذہنِ نارسا میں کوندا تک نہ ہو گا۔
اس قبل جب بھی میاں صاحب کے سیاسی مخالفین ان کو ضیاء کی باقیات کہا کرتے، تو یقین کیجئے ہمیں بہت برا لگتا کیوں کہ قومی اور علاقائی معاملات خصوصاً بھارت اور افغانستان کے حوالے سے موصوف کی حکمت عملی ضیاء الحق مرحوم کی فکر اور خیالات کی ضد رہی ہے۔ لیکن اس اقدام سے چھوٹے بھائی نے (اور یقینناً بڑے بھائی کی تھپکی اور مشاورت سے ہی) یہ بات ایک مرتبہ پھر ثابت کردی کہ وہ ضیاء الحق مرحوم کی سوچ کو ابھی تک حرزِ جاں بنائے ہوئے ہیں۔
ماضی میں صوبہ پنجاب کی آبادی، وسائل اور حجم کے حوالے سے ہماری خاکی اسٹیبلشمنٹ کے ایک بہت بڑا مسئلہ رہا ہے۔ ان کا خیال رہا ہے کہ ’’بوقتِ ضرورت‘‘ اتنے بڑی آبادی اور رقبے والے صوبے سے لین دین کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہے ، لیکن اگر اس کی جگہ چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹ ہوں تو بوقت ضرورت کسی تردد کی ضرورت نہ پڑے اور جوانوں کو بھاگ دوڑ کر کے انہیں گرفتار نہ کرنے کی زحمت گوارا نہ کرنا پڑے۔
اس لئے جنرل ضیاء الحق مرحوم کے مارشل لاء کے زمانے میں پنجاب کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کی ابتدا کی گئی اور لاہور ہائی کورٹ کے پرنسپل سیٹ کے ساتھ ساتھ ملتان، بہاولپور اور راولپنڈی بنچز کا قیام عمل میں لایا گیا، بظاہر اس کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اس سے انصاف لوگوں کی دہلیز پر پہنچ سکے گا لیکن عملاً جب ان شہروں میں وہاں کے کمشنر ہاوسز کی تزئینِ و آرائش کا کام شروع ہوا تو یار لوگوں کو پتہ چلا کہ یہ کسی اور بات کی تیاری ہے۔وہ تو مرحوم کو طیارہ حادثے نے مہلت نہ دی ورنہ وہ یہ ٹنٹا بھی نکال جاتے اور شائد بعد میں آنے والے بہادر کمانڈو پرویز مشرف صاحب کو صوبہ پنجاب سنبھالنے کے لئے چوہدریوں والی کڑوی گولی نہ نگلنا پڑتی۔
خیر جو بات چیف سیکرٹری صاحب نے اپنے پسندیدہ رپورٹروں کے کانوں میں انڈھیلی ہے اور جس پر پنجاب حکومت کے ترجمان نے تڑکا بھی لگایا ہے وہ یہ کہ جہلم سے اٹک تک شمالی پنجاب صوبہ ، جہلم سے براستہ لاہور اور فیصل آباد تا میاں چنوں ،وہاڑی مرکزی یا شرقی صوبہ پنجاب ، دریائے ستلج مرحوم کے اس پار ریاستِ بہاولپور کی صورت میں جنوبی پنجاب کا صوبہ، جب کہ ڈی جی خان، ملتان، میانوالی تک غربی صوبہ پنجاب۔
اب چھوٹے میاں صاحب نے عین انتخابات سے پہلے اس بات کو ایک مرتبہ پھر اٹھا کر جنوبی پنجاب میں خود کو متوقع چیلنج سے نپٹنے کے لئے ایک مرتبہ پھر کمر کس لی ہے۔ یہ کمر انہوں نے سال 2013کے انتخابات سے قبل بھی کسی تھی لیکن انتخابی نتائج کے بعد انہوں نے کمر کھول دی تھی اور چار سال تک ان کا کمربند پنڈی والی بیگم کے ہاں ہی پڑا رہا۔
اگر آپ کو یاد ہو تو پنجاب اسمبلی نے ہی 2013کے انتخابات سے عین پہلے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی طرف سے پیش کردہ ایک قرارداد پاس کی تھی جس کے تحت جنوبی پنجاب میں ایک الگ صوبے کا مطالبہ درج تھا۔ آئینِ پاکستان کے مطابق کسی بھی صوبے میں اس وقت تک نیا صوبہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہاں کی منتخب اسمبلی اس حوالے سے قانون سازی کی شکل میں ایک قرارداد وفاق کو نہ بھجوا دے۔ قانون سازی نہ سہی، قراداد ہی سہی اور یوں پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے جنوبی پنجاب صوبے کا چھنکنا پیپلز پارٹی کے ہاتھ سے چھین لیا جو وہ ان گذشتہ انتخابات میں بجا کر وہاں کے عوام کو اپنے پیچھے لگانا چاہ رہی تھی۔ یہ امرانتخابی نتائج میں یوں سامنے آیا کہ پیپلز پارٹی وہاں سے بمشکل دو تین سیٹیں ہی جیت پائی۔ اب ایک مرتبہ پھر انہوں نے پیپلز پارٹی کی سیاست کے نیچے سے قالین کھینچنے کی کوشش کی ہے۔
کیوں کہ یہ بات ایک معلوم حقیقت ہے کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے مسائل کی وجہ اختیارات کا نچلی سطح پر نہ منتقل ہونا ہے۔ خادمِ اعلیٰ ساری حکومت کو جس طرح اپنی ذات کے ارد گرد گھمانا چاہتے ہیں ، اس جنون میں انہوں نے بے شمار بیگمات کی طرح بے شمار اختیارات بھی اپنی ذات کے گرد اکٹھے کر لئے ہیں۔ وہ اختیارات جو مقامی سطح پر ڈی سی او یا پھر ای ڈی او کی سطح پر موجود ہونے سے مسائل با آسانی مقامی سطح پر حل ہو جانے چاہئیں وہ اختیارات اپنی ذات میں سمو کر موصوف نے دراصل جنوبی ہی نہیں مرکزی ، شمالی ، اور شرقی پنجاب کے لوگوں کی زندگیاں بھی اجیرن بنا دی ہیں۔ اور اس پر مستزاد انہوں نے پرانا کمشنری نظام بحال کر کے سارے نظام کا ہی بیڑہ غرق کردیا ہے۔ صوبے کے لوگوں کے مسائل کا حل ان کے مسائل کو بنیادی سطح پر حل کرنے میں ہے، نہ کہ نئے صوبے بنانے میں۔ عقل کا تقاضہ تو یہی ہے لیکن کیا کریں کہ اختیارات چھوڑنے کے ڈراونے خواب کے ساتھ ہی موصوف کو ’’ہول‘‘ اٹھنے لگتے ہیں۔ اور تو اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے پر جب موصوف کو مقامی حکومتوں کے نام نہاد انتخابات کروانا پڑے تو موصوف کو دل کا دورہ پڑ گیا تھا اور انہیں برطانیہ جا کر ہسپتال میں داخل ہونا پڑا تھا ، جہاں انہیں مزید شادیوں سے پرہیز کا مشورہ دے کر فارغ کر دیا گیا تھا۔ جی ہاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں