80

ہائیرایجوکیشن اور سیاسی مداخلت کا عمل – سلمان عابد

پاکستان کا حقیقی المیہ اداروں کی خود مختاری اور آزادانہ بنیادوں پر ان کو کام نہ کرنے دینا ہے ۔ سیاسی مداخلتوں نے عملی طور پر قومی اداروں کی بربادی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں اداروں ، قانون ، شفافیت اور جوابدہی کے مقابلے میں افراداور اقراپروری کی حکمرانی ہے ۔اگرچہ ہماری سیاسی اور جمہوری قیادت کا مقدمہ ہی شفافیت پر مبنی حکمرانی اور میرٹ کی بالادستی ہوتی ہے ، لیکن عملی طور پر ان کے سیاسی مفادات اور اداروں پر اپنی بالادستی کے لیے ان کو میرٹ اور شفافیت کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔اداروں کی بدحالی کی ایک عملی شکل ہمیں قومی اور صوبائی سطح پر ہائر ایجوکیشن کے مسئلہ میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔
اس وقت حالت یہ ہے کہ قومی سطح پر ہائر ایجوکیشن کا مقدمہ بہت ہی کمزور ہے ۔اگرچہ پرائمری تعلیم کا مقدمہ ہائر ایجوکیشن سے بھی بدتر ہے ۔لیکن جو بڑی سرمایہ کاری ہم نے پرائمری کے مقابلے میں اعلی تعلیم کو دی ہے تو اس کے بعد وہ مطلوبہ نتائج اور اعلی تعلیم کی ساکھ کے معاملات داخلی اور خارجی دونوں سطحوں پر سوالیہ نشان ہیں ۔پاکستان اور دنیا میں اعلی تعلیم کے معاملات کو جانچنے اور پرکھنے والے اہم اداروں کی رپورٹس کا جائزہ لیں تو اس میں بنیادی نوعیت وہ تنقیدی سوالات اٹھائے گئے ہیں جو اعلی تعلیم کی بہتری میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔ ہم اگرورلڈ اکنامک فورمزکی گلوبل ہیومین کیپٹل رپورٹ2017کو دیکھیں تو وہ بتاتی ہے کہ ہم تعلیم اور فنی تربیت میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔پاکستان 130ممالک کی فہرست میں 125ویں درجہ بندی پر کھڑا ہے ۔
پاکستان میں اس وقت جو اعدادوشمار ہیں اس کے مطابق187سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیاں اور تقریبا 110کے قریب علاقائی کیمپس موجود ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم بغیر کسی شفافیت اور میرٹ پالیسی اور اعلی تعلیم کی ضرورتوں کو مدنظر رکھے بغیر اعلی تعلیم میں موجود اہداف حاصل کرسکیں گے ، یقینی طور پر اس کا جواب نفی میں ہوگا۔ اگرچہ اعلی تعلیم کے حصول میں بہت سی رکاوٹیں سیاسی ، انتظامی ، مالی اور قانونی محاذ پر موجود ہیں ، لیکن ایک بڑا مسئلہ ان اہم اور بڑے تعلیم کے مسئلہ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سیاسی مداخلت کا ہے ۔یہ سیاسی مداخلت کا ہی نتیجہ ہے کہ ہم ان اہم تعلیمی درس گاہوں میں متحرک، فعال ، دیانت دار، شفاف، باصلاحیت اور مضبوط قیادت کے افراد کو سامنے لانے میں تسلسل سے ناکامی سے دوچار ہیں ۔
حال ہی میں پاکستان کے صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت نے سندھ میں ڈاکٹر عاصم حسین کو دوبارہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا سربراہ مقرر کردیا ہے ۔ان کی تقرری خاص طور پر سیاسی بنیادوں پر ہوئی ہے اور وہ اب نیب کے مقدمات کا سامنا کرنے کے بعد ایک متنازعہ شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں اور ان کی شفافیت سمیت خود ان کی تقرری پر میرٹ کی دھجیاں سمیت اقراپروری کی بدترین مثال پیش کی گئی ہے ۔اسی طرح پنجاب کی سطح پر جو حالیہ اعلی درس گاہوں میں وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے جو شرائط تیار کی گئی ہیں اس میں اس کے لیے پی ایچ ڈی ہونے کی شرط کو ختم کیا گیا ہے ، جو ظاہرکرتا ہے کہ کسی من پسند کو سامنے رکھ کر نئی شرائط رکھی گئی ہیں ۔18ویں ترمیم کے بعد خیال تھا کہ صوبہ کی حکومتیں اعلی تعلیم کے معاملات میں زیادہ شفافیت پیدا کریں گی ، مگر ان صوبائی حکومتوں نے بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے پرانی غلطیوں کو ہی دہرایا ہے ۔سندھ نے جو رویہ اختیار کیا ہے اس بات کا خدشہ بڑھ گیا ہے کہ یہ ہی رویہ دیگر صوبوں میں بھی تقویت پکڑے گا۔
پاکستان میں اعلی تعلیم کو جانچنے کے لیے علمی اور فکری محاز پر ایک گروپ’’ ورکنگ گروپ برائے ہائر ایجوکیشن اصلاحات‘‘ کی تشکیل ہوئی ہے ۔ اس گروپ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں یہ مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اعلی تعلیم میں بہتری کو یقینی بنانے کے لیے تین اہم اقدامات کیے جائیں۔ اول شفافیت، میرٹ، دیانت اور صلاحیت کو بنیاد بنا کر تمام سطح پر اہل افراد کی سیاسی مداخلتوں کے بغیر تقرری کے عمل کو یقینی بنایا جائے ۔ دوئم وائس چانسلرز کی تقرری کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان یونیورسٹیوں کے سربراہان کی تقرری کے لیے جو سرچ کمیٹیاں تشکیل دیں اس میں بھی میرٹ کی پالیسی کو یقینی بنایا جائے ۔کیونکہ اگر سرچ کمیٹی تعلیم سے ہٹ کر غیر متعلقہ لوگوں پر یا سیاسی اقراپروری کی بنیاد پر تشکیل دی جائے گی تو شفاف تقرری کا عمل ممکن نہیں ہوگا۔ سوئم ان تمام درس گاہوں یا انتظامی اداروں میں افردا کی تقرری کے لیے یونیورسٹیوں کی سطح پر منتخب اساتذہ کی تنظیموں سمیت فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کو بھی مشاورت کا حصہ بنایا جائے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام قومی اور صوبائی اداروں میں اہم تقرریوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے جو حکومتوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ شفافیت او رمیرٹ پر مبنی پالیسی کو یقینی بنائے ۔اس برس2018اعلی تعلیم کے حوالے سے اہم برس ہے ۔کیونکہ اس برس وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ سمیت 20سے زیادہ یونیورسٹیوں کے سربراہان کی تقرریاں ہونی ہیں۔اگر ان اداروں کے سربراہان کی تقرریوں میں ماضی اور حال کی سیاسی مداخلت پر مبنی پالیسی کو ہی آگے بڑھایا گیا تو اعلی تعلیم کے ساتھ واقعی یہ بڑی زیادتی ہوگی ۔ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ کی مدت بھی 2018اپریل میں ختم ہورہی ہے اس میں بھی میرٹ پالیسی کو یقینی بنایا جائے ۔اصولی طور پر ہمیں ان تمام اہم اداروں میں ہونے والی تقرریوں میں اس کے اہم مقاصد، دیانت، جوابدہی ، شفافیت، کھلا پن اور میرٹ کو مدنظر رکھ کر اعلی تعلیم کے مقاصد کے حصول کی جنگ کو مضبوط بنانا ہے ۔
18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں نے حقیقی معنوں میں اعلی تعلیم کے تناظر میں کافی مایوس کیا ہے ۔صوبائی سطح پر صوبائی حکومتوں کی سیاسی مداخلت نے کافی مسائل پیداکیے ہیں ۔ وجہ ظاہر ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں یونیورسٹیوں کی سطح پر اپنا کنٹرول چاہتی ہیں ۔ یونیورسٹیوں کی سطح پر موجود سنڈیکیٹ میں ارکان اسمبلی کی موجودگی خود سیاسی مداخلت کے عمل کو تقویت دیتی ہے ۔اس وقت بھی صوبوں میں یونیورسٹیوں کو ایڈہاک پالیسی پر چلایا جارہا ہے اور مستقل وائس چانسلرز کی تقرری میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں ۔ مقصد یہ ہی ہے کہ ایڈہاک بنیاد پرمبنی پالیسی کے تحت وائس چانسلرز کو کمزور رکھ کر اپنے مفادات کو تقویت دی جائے ۔اسی طرح وفاقی حکومت اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت صوبائی حکومتیں صوبائی سطح پر بننے والے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خود مختاری دینے کے بجائے ان کے معاملات میں بھی مداخلت کرکے ان کے کردار کو محدود کیا جارہا ہے ۔جبکہ وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تشکیل 2002میں کئی گئی اور اب تک محض دو صوبوں پنجاب اور سندھ میں صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن تشکیل دیے گئے ، جبکہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں ان کمیشن کی تشکیل میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔
یہ بات پیش نظر رہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت یونیورسٹیوں کی سطح پر میرٹ پر مبنی تقرری کا معاملے کا تعلق محض افراد کی تقرری تک محدود نہیں ،بلکہ اس کا براہ راست تعلق اعلی تعلیم کے عمل میں موجود مسائل سے بہتر طور پر نمٹنا ہے ۔ کیونکہ پہلے سے موجود یونیورسٹیوں کے معاملات، نئی یونیوسٹیوں کی تشکیل ، نجی یونیورسٹیوں کی شفافیت او رکوالٹی کو یقینی بنانا، تحقیق کا موثر نظام ، ڈگریوں کی سیاسی ، علمی اور اخلاقی ساکھ ، یونیورسٹیوں کی عالمی درجہ بندی میں ساکھ ، تقرریوں، اساتذہ کے مسائل ، پالیسیوں کو ترتیب دینا ، نئے معاملات کی شفاف انداز میں منصوبہ بندی ، غیر نصانی سرگرمیوں سمیت علمی اور فکری مباحث ، سازگار ماحول ، طالب علم اور اساتذہ کے درمیان باہمی تعلقات، امتحانی نظام کی شفافیت جیسے مسائل سرفہرست ہیں ۔ ان مسائل کا حل سیاسی مداخلتوں اور سیاسی تقرریوں کی موجودگی میں ممکن نہیں اور اس کاہم کو علاج تلاش کرنا ہوگا۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا جمہوری اور سیاسی نظام اور اس میں موجود سیاسی جماعتیں، قیادتیں اور اہل دانش کا مجموعی مزاج تعلیم دشمنی پر مبنی ہے ۔ اعلی تعلیم سمیت بنیادی تعلیم ہاری ترجیحات کا حصہ ہی نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے اعداوشمار ملک کے اندر اور دنیا میں سوالیہ نشان کے طور پر دیکھے جاتے ہیں ۔جب سیاسی نظام اور سیاسی قیادتیں خود تعلیم کے بگاڑ میں عملی طور پر اصلاحات کی بجائے بگاڑ کا شکار ہوں تو اصلاح کے امکانات بھی محدود ہوجاتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اہل دانش اور اعلی تعلیم سے وابستہ افراد سر جوڑ کر بیٹھیں اور سمجھیں کہ ہم نے جو راستہ سیاسی مداخلتوں کی بنیاد پر اختیار کیا ہوا ہے وہ درست نہیں۔اس لیے ہمیں اپنی بہتر ترجیحات کا تعین نئے سرے سے کرنا چاہیے اور یہ ترجیحات شفافیت اور مشاورت کی بنیاد پر آگے بڑھے گی تو ہم سرخرو ہوسکیں گے ۔

مکالمہ
سلمان عابد
salmanabidpk@gmail.com

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں