An Article On Child Safety By Inam Ul Haq 128

جلاوء گھیراوء یا بچوں کا بچاوء – انعام الحق

An    Article    On    Child    Safety    By    Inam   Ul   Haq

جلاوء گھیراوء یا بچوں کا بچاوء – انعام الحق

جمعرات چار جنوری کوقصور کی رہائشی سات سالہ زینب قرآن مجید پڑھنے کے لیے اپنی خالہ کے گھر گئی اور
راستے سے غائب ہو گئی۔ بچی کی تلاش شروع ہوئی، رشتے داروں نے بازار کے سی سی ٹی وی کیمروں
سے فوٹیج نکال کر پولیس کے حوالے کی لیکن پولیس بچی کو بازیاب نہ کراسکی ۔ 9جنوری کوبچی کی لاش شہباز
خان روڈ سے کچرے کے ڈھیر سے ملی۔ بچی کو خوفناک طریقے سے درندگی کا نشانہ بناکر قتل کیا گیا
تھا۔ سوشل میڈیا پر جسٹس فار زینب کے نام سے کمپین شروع ہوئی اور قصور شہر میں ایک ہنگامہ برپا
ہو گیا۔

لوگ احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے ہجوم نے ڈی پی او آفس پر حملہ کر دیا، پولیس نے فائر کھولا،
دو لوگ ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔ احتجاج کا دائرہ پھیلتا گیا حکومت پر دباوء بڑھا اور حکومتی مشنری
حرکت میں آئی اور اعلی حکام کی نیندیں اڑیں، سیاستدانوں کو بیانات دینے پڑے، چیف جسٹس نے سو موٹو لیا ،
حزب اختلاف نے اپنی توپوں کے دہانے حکومت پر کھولے ، پوائنٹ سکورننگ کا سلسہ شروع ہوا ، وازیراعلی پنجاب
نے سخت نوٹس لیا ، پولیس نے دوڑ لگائی اور پکڑ دکھڑ کا ایک سلسہ شروع ہوا اور پولیس قاتل کو
پکڑنے میں کامیاب ہو گئی ۔

ہم اگر زینب قتل کے بعد عوام اور حکومت کے رویوں کا جائزہ لیں تو ہمیں دونوں غلط نظر آئیں
گے۔ اگر تھانوں پر حملے، پتھراؤ،اور ٹائر جلانے سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو پھر آپ بے
شک تمام تھانوں کو آگ لگا دیں۔ اسی طرح اگر ڈی پی او کے تبادلے وزیراعلیٰ کے نوٹس اور
چیف جسٹس کے سوموٹو سے بھی یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے تو بے شک تبادلوں اور نوٹسز کا انبار
لگا دیں لیکن یہ مسئلہ نوٹسز سے حل ہو گا اور نہ ہی گھیراؤ جلاؤ سے۔ آپ کو آج یا
کل بالآخر اس درندگی کے تدارک کے لیے کوئی نظام وضع کرنا پڑے گا جس کی مدد سے ہم نہ
صرف اپنے بچوں کو اس طرح کے سانحات سے بچا سکیں بلکہ معاشرے میں موجود اس طرح کے رویوں کے
حامل افراد کی اصلاح کا کام بھی کر سکیں۔

المیہ یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سینکڑوں سالوں سے دنیا کے تمام ممالک بشول مملکت
خداداد میں ہو رہے ہیں مگر ذیادہ تر واقعات میں قتل جیسے گھناونے جرم کا ارتکاب نہیں ہوتا اس لیے
اکثر واقعات منظر عام پر نہیں آ پاتے ۔ اپنے پھول جیسے بچوں کو اس طرح کے واقعات سے بچانے کے
لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر کا م کرنے کی ضرورت ہے۔ انفرادی سطح پر ہمیں چاہیے
کہ ہم اپنے بچوں کو شروع سے ہی اس بات کی تربیت دیں کہ ان کو جنسی زیادتی سے بچنے
کے لیے کیا کرنا چاہیے۔

یہ تربیت بلا امتیاز لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کی ہونی چاہیے۔ بچوں کو جنسی طور پر ہراساں ہونے سے بچانے
کے لیے کچھ مفید ہدایات جن پر عمل کرتے ہوئے ہم بچوں کو بہت حد تک اس طرح کے سانحات سے بچا سکتے ہیں۔

دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات زیادہ تر گھر جیسے محفوظ
ترین مقامات پر ان رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاتھوں کی ہی رونما ہوتے ہیں جن پر ہم سب سے
زیادہ اعتبار کرتے ہیں جیسے کہ والدین کے کوئی قریبی کزن،دوست، محلے دار وغیرہ ۔اپنے بچوں کو اس بات
کی خاص ترغیب دیں کہ کسی اجنبی سے کوئی تحفہ قبول نہ کریں ،چاہے وہ تحفہ کتنا بھی پرکشش کیوں
نہ ہو۔ انہیں یہ واضح کریں کہ ان کے ٹیوٹر،ڈرائیور، چوکیدار وغیرہ سب اُن کے لئے اجنبی ہیں۔

اپنے بچوں کو صحیح اور غلط انداز میں چھونے کا فرق بتائیں اور یہ بھی بتائیں اگرکوئی انہیں نا مناسب
طریقے سے چھوئے تو انھیں کیا کرنا چاہیے۔بچوں کو سکھائیں کہ اگر بچوں کی مرضی کے خلاف کوئی عمل
ہو رہا ہے تواس پر احتجاج کر سکیں اور اگر پھر بھی کوئی زبردستی کرے تو اپنے بچاؤ کے لئے
بلند آواز سے چیخنے کی ترغیب دیں۔ اپنے بچوں میں شرم اور حیا کی حس کو بیدار کریں اور جتنا
جلد ہوسکے انہیں خوداعتمادی اورخود انحصاری سکھائیں۔

اپنے بچوں کو ان کی چھٹی حس کو محسوس کرنے اوراس کو سمجھنے کی ترغیب دیں اور انہیں یہ بتائیں
کہاگر ان کی چھٹی حس ان کو کسی خطرے کا اشارہ دے رہی ہے تو کسی کو کوئی صفائی دیے
بغیر وہ جگہ چھوڑ کر کسی محفوظ جگہ چلے جائیں۔اگرآپ کا بچہ کسی خاص شخص کی موجودگی میں خود
کو غیر محفوظ محسوس کرے تو اسے اس شخص کے پاس جانے پر مجبور نہ کریں اور اس بات پر
بھی کڑی نظر رکھیں کہ آپ کا بچہ کسی خاص شخص کے پاس ضرورت سے زیادہ جانے کا اصرار تو
نہیں کر رہا۔

اس بات کا دھیان رکھیں کہ آپکے بچے کمپیوٹر یا ٹیلی ویڑن پر کیا دیکھتے ہیں بے ہودہ چینل اور
ویب سائٹس کو بلاک کر دیں اور اپنے ٹی وی پر چائلڈ لاک لگا دیں جس سے بچہ صرف وہ
چینل دیکھ سکے گا جس کی آپ نے اسے اجازت دے رکھی ہے۔

بچپن سے اپنے بچوں کے ساتھ حقیقی اعتماد کا رشتہ قائم کریں ان کے احساسات کا خیال کریں تاکہ وہ
آپ سے اپنے دل کی بات کرنے میں ذرہ بھی نہ ہچکچائیں اگر بچہ کسی کی شکایت کرے تو اس
کو نظر انداز نہ کریں اور نہ ہی ان کا مذاق اڑائیں بلکہ توجہ سے ان کی بات سنیں .بچوں
کی عمر کو مد نظر رکھتے ہوئے مذہبی اور معاشرتی روایات کے مطابق ان کو جنسی تعلیم دیں اور ان
کو وہ بتائیں جو وہ آسانی سے سمجھ سکیں۔بڑے بچوں کو جنسی معاملات کی صحیح اقدار سے آگاہ کریں
تا کہ عمر کے ساتھ آتی جسمانی تبدیلوں کو سمجھتے ہوئے بلوغت میں قدم رکھیں اگر آپ انہیں صحیح تعلیم
نہیں دیں گے تو معاشرہ انہیں غلط اقدار میں الجھا دے گا۔

اپنے بچوں کو کسی کے بھی ساتھ اکیلے بیٹھنے کی اجازت نہ دیں اور بے وجہ گھر کے علاوہ کسی
دوست یا رشتہ دار کی طرف رات گزارنے کی اجازت نہ دیں۔ اگر ہم ان ہدایا ت پرعمل کریں تو
ہم کافی حد تک اپنے بچوں کو جنسی استحصال سے بچا سکیں گئے مگر اس مسلئے پر موثر انداز سے قابو
پانے کے لیے انفرادی کے ساتھ اجتماعی اور حکومتی سطح پر اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔

اجتماعی طور پر ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے محلوں میں اس بات کا اہتمام کریں کہ جوان ہوتے بچوں
کو مذہبی تعلیمات کی روشنی میں زمانے کی اونچ نیچ سے آگاہ کریں۔ بچوں میں کھیلوں کو فروغ دیں تا کہ
وہ اپنا وقت مثبت سرگرمیوں میں صرف کریں۔

حکومتی سطح پر ایک نوٹیفیکشن جاری کیا جائے کہ تعلیمی اداروں بالخصوص پرائیویٹ اسکولوں کو پابند کریں کہ کم از کم ایک ماہر نفسیات ضرور رکھیں۔ یہ ماہر نفسیات بچوں کا باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہیں۔ اسکول اساتذہ کو بھی پابند کریں کہ یہ بچوں کو اپنی حفاظت کے بارے میں گاہے بگاہے بتاتے رہا کریں۔ دوسرا حکومت اس سلسلے میں موجود قوانین کا سختی سے اطلاق کرے اور اگر ان قوانین میں بہتری کی ضرورت ہے تو فوری طور پر اس پر کام کیا جائے۔

تیسرا شہروں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں تا کہ ہر طرح کی نقل وحرکت پر نگاہ رکھی جا سکے۔ پولیس کا رویہ لوگوں کے ساتھ بہتربنایا جائے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس قسم کی شکایات پر فوری ایکشن لیں اور عدالتیں اس قبیل کے مجرموں کو فوری اور سخت سزائیں دیں تا کہ آئندہ کوئی ایسا کرنے کا سوچ بھی نہ سکے ۔

زینب کی موت کا دلخراش واقصہ ایک الارم ہے ہم اگر اس الارم سے الرٹ ہو جائیں اور انفرادی ، اجتماعی اور حکومتی سطح پردرست اقدامات کر لیں تو یقین مانیں زینب کی جان ملک کے ہزاروں بچوں کو زندگی دے جائے گی اور ہم اپنے بچوں کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں گئے۔اور اگرہم نے اس الارم کو اگنور کیا تو پھر ہم کسی اور معصوم کی لاش سامنے رکھے جلاوء گھیراو اور پتھراوء کررہے ہوں گئے۔ An Article On Child Safety By Inam Ul Haq

An Article On Child Safety By Inam Ul Haq

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں