DIG-press-conference 48

چینی قونصلیٹ حملے میں افغان سرزمین استعمال ہوئی، را بھی ملوث-

کراچی
(اردو سکوپ آن لائن) ایڈیشنل انسپکٹر جنرل امیر شیخ کا کہنا ہے کہ ہم نے چینی قونصلیٹ حملے کے سہولت کار گرفتار کرلیے ہیں، منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی جبکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی راٰ بھی ملوث ہے-

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل امیر شیخ نے ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی اور ایس ایس پی ملیر عرفان بہادر کے ساتھ پریس کانفرنس کی-

ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ چینی قونصلیٹ حملے میں کئی ملزمان کو گرفتار کرلیا ہی-، واقعے کی تحقیقات میں بہت سے نام سامنے آئے،چینی قونصلیٹ پر حملے کے لیے اسلحہ بلوچستان سے ریلوے کے ذریعے لایا گیا۔

کراچی پہنچنے کے بعد اسلحہ بلدیہ ٹاؤن میں ایک گھر میں رکھا گیا، گاڑی اوپن لیٹر پر تھی، حملے کا ماسٹر پلان افغانستان میں بنا۔ حملے کا ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو افغانستان میں مارا جا چکا ہے۔

یڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ (بلوچستان لبریشن آرمی) بی ایل اے کو لیڈ آج کل بشیر زیب نامی دہشت گرد کر رہا ہے، واقعے میں افغان سرزمین استعمال ہوئی، را بھی ملوث ہے۔

انہوں نے بتایا کہ واقعے والے دن حملہ آور بلدیہ ٹاؤن سے آئے تھے، بی ایل اے کے کراچی اور بلوچستان کے لوگ اس میں ملوث تھے۔ چینی قونصلیٹ پر حملے کے ذریعے سی پیک کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ تھا، دہشت گردوں کا عالمی سطح پر پیغام دینا تھا کہ پاکستان غیر محفوظ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں