162

ون بیلٹ ون روڈ کمپنیوں کیلئے ہانگ کانگ میں چینی کرنسی میں آئی پی اوز کے اجرا کی اجازت

بیجنگ – سرکاری میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کی حکومت چینی کرنسی آر ایم بی کے اہم آف شور گڑھ کے طورپر ہانگ کانگ مارکیٹ کے کردار کو مستحکم بنانے کیلئے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں ملوث کمپنیوں کو ہانگ کانگ سٹاک ایکس چینج پر آ ر ایم بی مالیت والی ابتدائی عوامی پیشکشوں کے اجرا کی اجازت دینے پر غور کررہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ فی الوقت زیر غور ہے اور ابتدائی عوامی پیشکشوں کیلئے کوئی حتمی تاریخ مقررنہیں کی گئی ہے.

چین کے مرکز برائے بین الاقوامی اقتصادی ایکس چینجز کے وائس چیئرمین جانگ شیاؤ چیانگ نے سرکاری ملکیت میڈیا کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ اس قسم کی کوششوں کے ذریعے حکومت کو امید ہے کہ ہانگ کانگ سرمایہ کاری کے محاذ پر اس منصوبے کیلئے سہولت فراہم کرنے اور یوآن کی بین الاقوامی حیثیت کو مزید فروغ دینے میں زیادہ کردار اداکرے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہانگ کانگ میں سرمایہ پر پابندیوں کا فقدان ہے اور کرنسی کا تبادلہ اسے بیلٹ و روڈ منصوبے سے متعلق پراجیکٹوں کیلئے سرمایہ اکٹھا کرنے کے اہم مرکز کے طورپر مثالی بناتاہے.

حکومت چین نے بیلٹ و روڈ منصوبے کو فروغ دینے کیلئے کئی اہم سرمایہ کاری فنڈز کے اجرا کی حمایت کی ہے ، مئی میں چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ شاہراہ ریشم فنڈ میں جو کہ 40بلین امریکی ڈالر مینجمنٹ کے تحت چین کا سب سے بڑا پالیسی فنڈ ہے، مزید 100بلین آر ایم بی (14.50بلین امریکی ڈالر ) شامل کئے جائیں گے تا کہ ایشیا میں بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں کیلئے رقم کی فراہمی اور چین ،وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت و ٹرانسپورٹیشن کے روابط کو بہتر بنانے میں مدددی جا سکے،دو ماہ بعد روس کے براہ راست سرمایہ کاری فنڈ (آر ڈئی آئی ایف ) اور چین کے ترقیاتی بنک (سی ڈی بی ) نے یورپی و ایشیائی ممالک کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کیلئے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے طورپر 68بلین آر ایم بی (10بلین امریکی ڈالر )کے سرمایہ سے چین۔

روس آ ر ایم بی انویسٹمنٹ کارپوریشن فنڈ قائم کرنے سے اتفاق کیا ، دسمبر میں چین اور برطانیہ نے بھی بیلٹ و روڈ منصوبے کے تحت منصوبوں کی امداد کیلئے ایک بلین امریکی ڈالر کے ابتدائی ہدف کے ساتھ دوطرفہ سرمایہ کاری فنڈ کے قیام سے اتفاق کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں