140

مجھے دین کی بحث میں نہیں پڑنا – محمد صائم

مجھے دین کی بحث میں نہیں پڑنا
یہ ایک ایسی بحث ہے جس کے بعد آپ کے ساتھ بحث کرنے والا آپکو ایک پل میں آپکے ہی ایمان سے خارج کر دیتا ہے اور
کافر جیسا
اتنا بھاری بھرکم تاثیر رکھنے والا لفظ آسانی سے آپ کے اوپر لاگو کر دیتا ہے.
لیکن آج ایک بات کرنا چاہوں گا بس
میں نماز پڑھتا یا نہیں
یہ میں بتانا مناسب نہیں سمجھتا
اگر کہوں گا کہ پڑھتا ہوں تو وہ بھی غلط
اگر کہوں گا نہیں پڑھتا تو وہ بھی غلط
کچھ دن پہلے میں جدہ میں اپنے انکل کے پاکستانی ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا میں آجکل جس جگہ کام کر رہاہوں وہ جگہ انکل کے ہوٹل کے پاس ہے تو رات کا کھانا میں وہاں ہی کھاتا ہوں
ہم میں سے زیادہ تر یہ جانتے ہیں کے سعودی عرب میں نماز کے اوقات پر کاروبار بند کر دیے جاتے ہیں
عشا کی آذان ہوتے ہی میں ہوٹل چلا جاتا ہوں اور تب تک کھانا کھا کر نماز کے فوراٍ بعد کام پر چلا جاتا ہوں.
میرے علاوہ اور بھی کچھ بھائی موجود ہوتے ہیں جو کھانا کھا رہے ہوتے ہیں جب کے اس دوران ظاہری طور پر ہوٹل بند کر دیا جاتا ہے اور قانون کی پاسداری کی جاتی ہے لیکن جو پہلے سے کھانا کھا رہے ہوں اور ابھی تک اپنا کھانا ختم نہ کر چکے ہوں تو انہیں فوراٍ نکالنا مناسب نہیں ہوتا اس طرح رزق اور انسانیت کی پاسداری بھی کی جاتی ہے.
دو دن پہلے میں یوں ہی کھانا کھا رہا تھا کہ سامنے والی ٹیبل پر بیٹھے ایک پاکستانی بھائی نے ایک اور روٹی لینے کی فرمائش کی جس کے جواب میں ٹیبل مین نے یہ کہہ دیا کے جب تک نماز نہیں ہو جاتی آپکو روٹی نہیں ملے گی کیوں کہ جو جناب روٹی لگاتے ہیں وہ نماز کے پابند ہیں اور اگر انہیں یہ کہا جائے کے نماز بعد میں پڑھ لینا ایک روٹی اور لگا دو تو وہ اس بات پر آگ بگولہ ہو جاتے ہیں اور نماز وقت پر پڑھتے ہیں
ساتھ میں ٹیبل مین نے یہ بھی کہہ دیا کہ ہم تو کافر ہیں نماز نہیں پڑھتے لیکن جو پڑھتے ہیں کم سے کم انہیں کیوں روکیں
جو بات سننے کے بعد اس پاکستانی بھائی کے اندر کا وہ فلسفی جاگ پڑا جو فرائض کے معاملات میں سویا ہوتا ہے
انہوں نے اپنی آواز کو جوش دیتے ہوئے اور بہت خوبصورت انداز میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ اپنا بیان شروع کیا
جس میں سے صرف
ایک ہی بات میری سماعت سے ٹکرائی
(صرف نماز ہی نہیں ہے دین میں اور بھی بہت کچھ ہے صرف نماز پڑھنے والا ہی مسلمان نہیں ہوتا)
یہ بات مجھے کچھ سال پیچھے لے گئی جب اگر مجھے کوئی نماز کا کہتا تھا تو اسے جواب دینے کے لیے میرے پاس انہی باتوں کا سہارا ہوا کرتا تھا
تب میں تھوڑی نہ غور کیاکرتا تھا جب بھی صبح کی آذان دینے والا یہ کہتا
الصلوت خير من النوم
میں آج بھی کوشش کرتا ہوں کہ صبح کو ان الفاظ کو نہ سن پاؤں یا سو رہا ہوں یا سو چکا ہوں کیوں کی ان کو سننے کے بعد میں فجر ادا کیے بغیر سو نہیں پاتا
اب ان الفاظ کا بہت حد تک مطلب سمجھ چکا ہوں.
آج یہ بات کرنے کا مقصد خودکو نیک بنا کر ابھرنا نہیں ہے
بس یہ کہنا چاہتا ہوں
دین واقعی صرف نماز پڑھ لینے کا نام نہیں ہے لیکن نماز چھوڑ دینا بھی دین نہیں ہے
اور اگر میں کوئی بھی نیک عمل یا اللہ کا حکم چھوڑ دوں تو کم سے کم ندامت ضرور ہو نہ کہ اس عمل کو ہی دائرے سے باہر کر کے اپنی مستی میں مگن رہوں
باقی بس دعا ہے کہ ہم سب دین پر مکمل چلنے کی کوشش کریں اور دین کی صحیح روشنی ہم تک پہنچے اور اسے آگے بھی پھیلائیں اپنا آپ روشن کر لینے کے ساتھ ساتھ
اور جب ہم چمک اٹھیں گے تو روشنی ارد گرد خود بخود پھیل جائے گی.

اختلاف رکھیے گا براہ کرم بحث نہیں.

قلم بشر
محمد صائم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں